ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / نربھیا گینگ ریپ کیس: سپریم کورٹ نے مفاد عامہ کی عرضی مسترد کی 

نربھیا گینگ ریپ کیس: سپریم کورٹ نے مفاد عامہ کی عرضی مسترد کی 

Thu, 13 Dec 2018 20:09:12    S.O. News Service

نئی دہلی،13؍ دسمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) سپریم کورٹ نے سال 2012 کے نربھیا اجتماعی عصمت دری اور قتل کے قصورواروں کی موت کی سزا پر فوری عمل کے لئے دائر پٹیشن جمعرات کو مسترد کر دی۔اس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ کورٹ نربھیا کے قصورواروں کو دو ہفتے میں پھانسی پر لٹکانے کے لئے مرکزی حکومت کو حکم دے۔سپریم کورٹ نے سماعت کرتے ہوئے پوچھا کہ اس درخواست میں یہ کیسی عرضی ہے؟ ساتھ ہی سپریم کورٹ نے دوبارہ ایسی عرضی داخل نہ کرنے کے لئے کہا ہے۔اس درخواست میں ساتھ ہی یہ بھی مانگ کی گئی تھی کہ سپریم کورٹ ہدایات دے، جس سے ریپ اور شکار کے قتل جیسے گھناؤنے جرم کو کرنے والوں کو زیریں عدالت کی طرف سے مجرم پائے جانے کے 8 ماہ کے اندر پھانسی پر لٹکایا جائے۔اس کے ساتھ ہی درخواست میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ ریپ اور متاثرہ کے قتل جیسے معاملے میں فاسٹ ٹریک سماعت ہونی چاہئے۔یہ عرضی وکیل الکھ آلوک شریواستو نے داخل کی تھی۔ جسٹس مدن بی لوکور اور جسٹس دیپک گپتا کی بنچ نے مفاد عامہ کی عرضی مسترد کرتے ہوئے کہاکہ یہ کس طرح کی درخواست آپ کر رہے ہیں؟ آپ عدالت کو مضحکہ خیز بنا رہے ہیں۔بتا دیں جنوبی دہلی میں 16۔17 دسمبر، 2012 کی رات ایک چلتی بس میں چھ افراد نے 23 سالہ طالب علم کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی اور زخمی کرکے اسے سڑک پر پھینک دیا تھا۔اس طالبہ کی 29 دسمبر 2012 کو سنگاپور کے ایک اسپتال میں موت ہو گئی تھی۔اس جرم کے سلسلے میں گرفتار ملزمان میں سے ایک رام سنگھ نے تہاڑ جیل میں خود کشی کر لی تھی جبکہ ایک اور ملزم نوجوان تھا جسے زیادہ سے زیادہ تین سال قید ہوئی تھی۔سپریم کورٹ نے نو جولائی کو تین قصورواروں مکیش، پون گپتا اور ونے شرما کی ان درخواستوں کو مسترد کر دیا گیا تھا جن میں انہوں نے سزائے موت کے 2017 کے اس فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کی تھی۔چوتھے مجرم اکشے کمار سنگھ نے سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی درخواست دائر نہیں کی ہے۔قصورواروں کو دہلی ہائی کورٹ اور زیریں عدالت نے موت کی سزا سنائی تھی۔ وکیل شریواستو نے اپنی پٹیشن میں کہا تھا کہ تین قصورواروں کی نظر ثانی کی درخواست مسترد ہوئے ساڑھے چار ماہ سے بھی زیادہ وقت ہو گیا ہے لیکن ابھی تک ان کی سزا پر عمل نہیں کیا گیا ہے۔
 


Share: